واشنگٹن: امریکی سینیٹر رافیل وارنوک نے ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے میں 170 سے زائد طالبات کی شہادت پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا اور انتہائی خوفناک ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر رافیل وارنوک، جو ایک پادری بھی ہیں، نے اس سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے اور دنیا کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔
ایران نے اس حملے کا الزام امریکا اور اسرائیل کی افواج پر عائد کیا ہے۔ دوسری جانب امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فوجی تحقیقات کے مطابق مناب شہر کے ایک اسکول پر حملہ امریکی فوج کی جانب سے ہدف کے تعین میں غلطی کے باعث ہوا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں سینیٹر رافیل وارنوک نے کہا کہ وہ قوم جس کے رہنما بچوں کی موت کو، چاہے وہ کسی بھی وجہ سے ہو، اس قدر آسانی سے نظر انداز کر دیں، اسے اخلاقی اصلاح کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ایرانی بچے بھی خدا کے بچے ہیں اور ان کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی اور ملک کے بچوں کی۔
واضح رہے کہ سینیٹر رافیل وارنوک ان 40 ڈیموکریٹک سینیٹرز میں شامل ہیں جنہوں نے بدھ کے روز امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کو خط لکھ کر ٹرمپ انتظامیہ سے ایران میں شہری ہلاکتوں کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔اس خط میں خاص طور پر ایران کے شہر مناب میں ایک پرائمری اسکول پر میزائل حملے کا ذکر کیا گیا ہے، جہاں اس المناک واقعے میں 170 سے زائد طالبات شہید ہو گئی تھیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس واقعے کے بعد نہ صرف عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے بلکہ امریکا کے اندر بھی اس معاملے پر سیاسی اور اخلاقی بحث تیز ہو گئی ہے۔
