مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے مزید کارروائیاں کی ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ان حملوں میں اسرائیلی قیادت سے منسلک اہم مقامات اور خطے میں امریکی فوج کی تین تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں حالیہ کشیدگی اور ایران کے خلاف مبینہ کارروائیوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایران اپنی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خودکش ڈرون نے عراق کے دارالحکومت بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے کے ایئر ڈیفنس سسٹم کو نشانہ بنایا۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس حملے کے بعد سفارت خانے کے اطراف سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔
ادھر امریکی میڈیا نے بھی بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے کے کمپاؤنڈ پر حملے کی اطلاعات دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سفارت خانے کے احاطے میں موجود ہیلی پیڈ کے قریب میزائل حملہ کیا گیا، جس کے بعد کمپاؤنڈ سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔ تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسی دوران خطے میں موجود ایک اہم امریکی فوجی اڈے کے حوالے سے بھی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ قطر میں واقع العدید ایئر بیس کے اطراف متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ یہ اڈہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوج کی اہم ترین تنصیبات میں شمار ہوتا ہے اور خطے میں امریکی فضائی آپریشنز کا مرکزی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ان حملوں کی مکمل تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید سنگین بنا سکتی ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی خطے کے دیگر ممالک کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس کے باعث عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب تاحال امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے ان دعوؤں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم سفارتی اور عسکری حلقوں میں اس پیش رفت کو انتہائی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔
