امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف حالیہ فوجی کارروائی کو مشرق وسطیٰ کی تاریخ کا سب سے طاقتور حملہ قرار دیا ہے، جس میں اعلان کیا گیا ہے کہ تمام نشانے مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے بیان میں وضاحت کی کہ یہ حملے ان کی ہدایات پر امریکی فوج کے مرکزی کمانڈ نے انجام دیے، اور اس کارروائی میں ایران کے اہم فوجی اہداف اور خارگ جزیرے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ صدر کے مطابق یہ کارروائی اس خطے میں امریکہ کی طاقت اور دفاعی صلاحیت کا عملی مظاہرہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ حالیہ حملے کے دوران کچھ وجوہات کی بنا پر خارگ جزیرے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران یا دیگر متعلقہ فریق آزاد اور محفوظ جہاز رانی کے حق میں مداخلت کرتے ہیں، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں، تو امریکہ اس فیصلے پر فوری نظرثانی کرنے کا اہل ہے۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ امریکی حکومت نے مشرق وسطیٰ میں جہاز رانی اور تیل کی سپلائی کی حفاظت کو انتہائی اہمیت دی ہے اور کسی بھی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
صدر نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ اپنے دونوں صدارت کے دوران، موجودہ اور پچھلے دور میں، انہوں نے امریکی فوج کو دنیا کی سب سے طاقتور اور مؤثر فوجی قوت بنایا ہے۔ ان کے بقول، ایران کے پاس کوئی بھی ایسی صلاحیت نہیں کہ وہ امریکہ کے حملوں کے اثرات کا مؤثر دفاع کر سکے۔ اس ضمن میں صدر نے زور دیا کہ ایران کبھی بھی نیوکلیئر ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا، اور نہ ہی وہ امریکہ، مشرق وسطیٰ یا عالمی سطح پر کسی بھی ملک کے لیے کوئی خطرہ بن سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے مشرق وسطیٰ پر تسلط کے منصوبوں اور اسرائیل کے خلاف منصوبوں پر بھی تبصرہ کیا۔ ان کے مطابق، ایران کی وہ تمام حکمت عملی جو اس خطے پر قبضہ کرنے اور اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے لیے تیار کی گئی تھیں، اب مکمل طور پر ناکام اور مردہ ہو چکی ہیں۔ امریکی صدر نے ایران کی فوج اور حکومت کے دیگر متعلقہ عناصر کو ہدایت کی کہ وہ اپنے ہتھیار ڈالیں اور اپنے ملک کو ممکنہ تباہی سے بچائیں۔ یہ پیغام ایک واضح انتباہ کے طور پر دیا گیا کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔
خارگ جزیرہ کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے خاص طور پر اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ جزیرہ ایران کے ساحل سے تقریباً 25 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور ایران کے کل تیل کی تقریباً 90 فیصد پیداوار عالمی منڈی میں یہاں سے جاتی ہے۔ اس جزیرے کی اہمیت نہ صرف ایران بلکہ پوری عالمی تیل مارکیٹ کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ اسی وجہ سے امریکی کارروائی میں خارگ جزیرے کو فوجی اہداف میں شامل کیا گیا لیکن اس کے بنیادی تیل کے انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر نشانہ بنانے سے گریز کیا گیا تاکہ عالمی معیشت پر منفی اثرات کم سے کم ہوں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی حکومت عالمی سطح پر اپنے دفاع اور خطے میں امن و استحکام کے لیے تیار ہے۔ ان کے بقول، امریکہ ایران کی کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کرے گا اور کسی بھی قسم کی فوجی یا اقتصادی مداخلت کا جواب فوری اور سخت دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی فوجی اور دفاعی صلاحیتیں دنیا کی دیگر تمام فوجی قوتوں سے کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہیں، اور ایران اس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
مزید برآں، صدر ٹرمپ نے ایران کی حکومت اور فوج کے اعلیٰ حکام کو خبردار کیا کہ اگر وہ اپنی جارحانہ پالیسیوں سے باز نہ آئے اور خطے میں امن قائم رکھنے کی کوشش نہ کریں تو امریکہ ان کے خلاف مزید کارروائی کرنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ اس انتباہ میں نہ صرف فوجی کارروائی کا امکان شامل ہے بلکہ اقتصادی اور تجارتی پابندیوں کی شدت میں بھی اضافہ کی دھمکی شامل ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران کو اس کی غیر قانونی اور جارحانہ پالیسیوں سے روکنا اور خطے میں امن قائم کرنا بتایا گیا۔
صدر کے بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ امریکہ کسی بھی وقت مشرق وسطیٰ میں آزادی اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے کارروائی کرنے کے لیے تیار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی مداخلت یا کسی دوسرے ملک کے تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کی صورت میں فوری جواب دیا جائے گا۔ امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ عالمی توانائی کی مارکیٹ متاثر نہ ہو اور تیل کی سپلائی کے عالمی نظام میں خلل پیدا نہ ہو۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں زور دیا کہ امریکی فوج نے گزشتہ چند سالوں میں اپنی طاقت اور استعداد میں بے پناہ اضافہ کیا ہے اور اس کی وجہ سے دنیا کی سب سے مضبوط اور مؤثر فوجی قوت بن گئی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاس نہ تو امریکہ کے حملوں کا مؤثر دفاع کرنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی وہ کسی بھی قسم کے نیوکلیئر ہتھیار حاصل کر کے خطے یا دنیا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ یہ بیان عالمی سطح پر واضح پیغام کے طور پر پیش کیا گیا کہ امریکہ اپنی حفاظت اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
مجموعی طور پر صدر ٹرمپ کے بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف اپنے فوجی اور دفاعی اقدامات کو نہایت سنجیدگی سے منصوبہ بندی اور عمل میں لایا ہے۔ خارگ جزیرے پر کیے گئے حملے، ایران کی فوجی صلاحیتوں کی جانچ اور خطے میں آزادی اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ امریکہ اپنی دفاعی اور اقتصادی ترجیحات کے لیے کسی بھی قدم سے گریز نہیں کرے گا۔
صدر کے بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ امریکہ ایران کے کسی بھی جارحانہ اقدام کو فوری اور مؤثر انداز میں روکے گا، چاہے وہ فوجی ہو یا اقتصادی۔ اس کا مقصد نہ صرف ایران کو محتاط بنانا ہے بلکہ خطے میں دیگر ممالک کو بھی واضح پیغام دینا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام قائم رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
مزید برآں، خارگ جزیرہ کے حوالے سے کہا گیا کہ ایران کے 90 فیصد تیل کی عالمی مارکیٹ میں روانگی کا یہ مقام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس جزیرے کی اہمیت عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی کے نقطہ نظر سے بھی بہت زیادہ ہے۔ امریکہ نے اس جزیرے پر اپنے فوجی آپریشن کے دوران اس بات کو یقینی بنایا کہ بنیادی تیل کے انفراسٹرکچر کو نقصان نہ پہنچے تاکہ عالمی مارکیٹ متاثر نہ ہو اور توانائی کی فراہمی میں خلل پیدا نہ ہو۔
صدر ٹرمپ کے بیان سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ امریکہ اپنی فوجی طاقت اور عالمی اثرورسوخ کے ذریعے ایران اور دیگر ممالک کو انتباہ دے رہا ہے کہ خطے میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی یا جارحانہ پالیسی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس انتباہ کا مقصد ایران کے لیے فوری اور واضح پیغام دینا ہے کہ وہ اپنے اقدامات میں تبدیلی لائے ورنہ اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔
صدر ٹرمپ کے اس بیان نے عالمی سطح پر ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے لیے ایک واضح انتباہ کے طور پر کام کیا کہ امریکہ نہ صرف اپنی فوجی قوت کے ذریعے بلکہ اقتصادی اور سفارتی ذرائع کے ذریعے بھی خطے میں اپنا موقف برقرار رکھے گا اور کسی بھی جارحانہ یا غیر قانونی اقدام کا فوری جواب دے گا۔
