نیٹو کے سابق سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیا جانے والا حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور نیٹو کو اس تنازع سے دور رہنا چاہیے۔
یہ آڈیو انٹرویو سویڈن کے سابق وزیر اعظم اور یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کے شریک چیئرمین کارل بلڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیا۔ انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ جینز اسٹولٹن برگ اس حقیقت پر بالکل واضح ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
کارل بلڈ نے مزید کہا کہ نیٹو کو اس تنازع میں کسی بھی قسم کی مداخلت سے دور رہنا چاہیے کیونکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
اپنے آڈیو انٹرویو میں جینز اسٹولٹن برگ نے کہا کہ اگرچہ کوئی بھی ایرانی حکومت کی حمایت نہیں کرتا، لیکن جس طریقے سے ایران پر حملہ کیا گیا وہ عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
ان سے انٹرویو کے دوران سوال کیا گیا کہ کیا نیٹو کو اس جھگڑے میں گھسیٹا جا سکتا ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ نیٹو ماضی میں کبھی بھی مشرقِ وسطیٰ کے روایتی تنازعات کا حصہ نہیں رہا، اس لیے نیٹو کو اس جنگ سے دور رہنا چاہیے۔
انٹرویو میں ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا نیٹو بطور اتحاد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں قائم رہ پائے گا؟ اس پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی حتمی ضمانت تو موجود نہیں، تاہم امید ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود نیٹو ایک مضبوط اتحاد کے طور پر قائم رہےگا
اُ
