امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک نئی اور نہایت حساس خبر سامنے آئی ہے جس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے سب سے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرہ پر قبضہ کرنے کے ممکنہ منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسا قدم اٹھایا گیا تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو ایک نئی اور خطرناک سطح تک لے جا سکتا ہے۔
امریکی حکام نے امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کو بتایا ہے کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایران کی مالی طاقت کو کمزور کرنا ہے، کیونکہ ایران کی معیشت کا بڑا حصہ تیل کی برآمدات پر منحصر ہے۔ حکام کے مطابق اگر امریکا خارگ جزیرہ پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہے تو ایران کی آمدنی کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
Kharg Island خلیج فارس میں ایرانی ساحل سے تقریباً تیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور ایران کی تقریباً نوے فیصد خام تیل کی برآمدات اسی مقام سے ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے اسے ایرانی معیشت کی شہ رگ بھی کہا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس جزیرے کو نشانہ بنانا ایران کی معیشت پر براہِ راست ضرب کے مترادف ہوگا۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اگر امریکا اس منصوبے پر عمل کرتا ہے تو امریکی فوجی زمین پر تعینات کیے جا سکتے ہیں۔ ایسی صورت میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک، خصوصاً Saudi Arabia کی تیل تنصیبات پر جوابی حملوں کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے، جس سے پورے خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب Reuven Azar نے کہا ہے کہ اس وقت امریکا اور Israel ایران پر براہِ راست حملہ یا قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک دباؤ کے ذریعے ایران کے اندر سیاسی تبدیلی لانے کی حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔
امریکی ذرائع کے مطابق ایران کی جانب سے Strait of Hormuz میں رکاوٹوں کے باعث عالمی تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مبینہ طور پر ایک بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکے اور عالمی تجارت کو بحال کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خارگ جزیرہ کے حوالے سے کوئی بھی فوجی اقدام کیا گیا تو اس کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی توانائی مارکیٹ، عالمی سیاست اور خلیجی خطے کے امن پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

Add A Comment