ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اب تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور عالمی سطح پر اس کے اثرات تیزی سے گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک انتہائی اہم اور مشکل فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ جنگ کو مزید جاری رکھیں یا اس بڑھتے ہوئے تنازع سے نکلنے کا راستہ تلاش کریں۔
Donald Trump کے سامنے دو واضح راستے بتائے جا رہے ہیں: یا تو وہ اپنے طے کردہ سخت اہداف کے حصول کے لیے جنگ جاری رکھیں، یا پھر اس تنازع سے باہر نکلنے کی کوشش کریں جو تیزی سے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے Israel کے ساتھ مل کر یہ جنگ ایک کمزور دشمن کے خلاف شروع کی تھی، تاہم اب اس جنگ کی بھاری معاشی اور سیاسی قیمت امریکا اور اس کے اتحادی ادا کر رہے ہیں۔ جنگ کے باوجود ایران میں حکومت کی تبدیلی کا ہدف تاحال حاصل نہیں ہو سکا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران ایران کے میزائل ٹھکانوں، فضائی دفاعی نظام اور بحریہ کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کے قتل کے بعد ان کے بیٹے Mojtaba Khamenei کو نیا سپریم لیڈر قرار دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ایران کی طاقتور پاسدارانِ انقلاب بدستور متحرک ہے اور سائبر حملوں کے ساتھ ساتھ خلیجی پانیوں میں آبی سرنگیں بچھانے جیسے اقدامات بھی کر رہی ہے۔
عراق کے سابق وزیر خارجہ Hoshyar Zebari کا کہنا ہے کہ یہ جنگ صرف عسکری نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور نظریے کی جنگ بھی ہے۔ ان کے مطابق دباؤ کے باوجود ایرانی عوام اور مزاحمتی قوتیں پرعزم ہیں کیونکہ ان کے لیے یہ بقا اور فنا کا معاملہ بن چکا ہے۔
اخبار کے مطابق اگر امریکا اس مرحلے پر جنگ سے پیچھے ہٹتا ہے تو ایران ایک مرتبہ پھر ایٹمی پروگرام کو تیز کر کے دس یا اس سے زیادہ جوہری ہتھیار بنانے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی حکام اب یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ انہوں نے ایران کی صلاحیتوں کو کم سمجھا تھا، خصوصاً Strait of Hormuz کو بند کرنے، عالمی معیشت کو متاثر کرنے اور خطے میں جنگ کو پھیلانے کی ایران کی طاقت کا درست اندازہ نہیں لگایا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ جنگ مزید طویل ہوتی ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈی اور عالمی سیاست پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
