اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے گزشتہ برس تہران کی ایک جیل پر ہونے والے اسرائیلی حملے سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں اس کارروائی کو جنگی جرم قرار دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کے دوران شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ کمیٹی کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
اقوام متحدہ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس حملے میں 70 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران عینی شاہدین کے بیانات، سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ان شواہد سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ حملہ ایسے مقام پر کیا گیا جہاں بڑی تعداد میں غیر مسلح شہری موجود تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت شہری تنصیبات اور غیر مسلح افراد کو نشانہ بنانا واضح طور پر ممنوع ہے اور اسے سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
کمیٹی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی مزید شفاف اور جامع تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کا تعین کر کے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

Add A Comment