اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور تعصب میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جس کے تدارک کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
نیویارک میں اسلاموفوبیا سے نمٹنے کا عالمی دن کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا میں تقریباً دو ارب مسلمان بستے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ امتیازی سلوک، نفرت اور تعصب کا مسلسل سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ کسی ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر پھیل چکا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مختلف معاشرتی اور ادارہ جاتی سطحوں پر تعصب جڑ پکڑ رہا ہے۔ امیگریشن پالیسیوں میں سختی، پروفائلنگ، اور مواقع کی فراہمی میں خاموش انکار جیسے رجحانات مسلمانوں کے لیے مشکلات بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ اکثر ایسے امتیازی اقدامات کو چیلنج بھی نہیں کیا جاتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلم مخالف بیانیہ، غلط معلومات کا پھیلاؤ اور نفرت انگیز تقاریر اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہیں۔ خاص طور پر جب بااختیار افراد اس طرح کے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں تو تعصب ایک معمول بن جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ مساجد کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے، اور دھمکیوں، ہراسانی اور توڑ پھوڑ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
انتونیو گوتریس نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمان دنیا بھر میں پرامن اور جامع معاشروں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود ان کی شناخت اور اقدار کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری، حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں، بین الاقوامی قوانین پر عملدرآمد کریں اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے جوڑنے کا ذریعہ بننا چاہیے۔
