واشنگٹن: امریکا کے قومی انسدادِ دہشت گردی مرکز کے سربراہ جوکینٹ نے ایران سے متعلق پالیسی پر اختلافات کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جوکینٹ نے اپنا استعفیٰ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کو ارسال کیا، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف جاری جنگ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس پالیسی کی حمایت نہیں کر سکتے۔
اپنے بیان میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران نے امریکی قوم کے لیے کوئی براہِ راست خطرہ پیدا نہیں کیا، جبکہ یہ جنگ اسرائیل اور اس کی بااثر لابی کے دباؤ پر شروع کی گئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیلی حکام اور امریکی ذرائع ابلاغ نے غلط معلومات پر مبنی مہم چلائی جس کے نتیجے میں صدر کو یہ باور کرایا گیا کہ ایران امریکا کے لیے خطرہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے وہی حکمتِ عملی اختیار کی جو عراق جنگ کے دوران استعمال کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسی جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے جس میں اگلی نسل کو نقصان اٹھانا پڑے اور جس کا امریکی عوام کو کوئی واضح فائدہ نہ ہو۔
دوسری جانب وائٹ ہائوس نے اس استعفے پر ردعمل دیتے ہوئے جوکینٹ کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ ترجمان کے مطابق استعفے میں کیے گئے یہ دعوے درست نہیں کہ ایران سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈٹرمپ کے پاس ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد موجود تھے کہ ایران امریکا پر حملے کی تیاری کر رہا تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران اپنے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں اور بحری صلاحیت کے ذریعے خطے اور دنیا کے لیے خطرہ بن رہا تھا۔
