واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کو اب شمالی بحر اوقیانوس کے فوجی اتحاد (نیٹو) کی حمایت کی ضرورت نہیں رہی۔ انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں نیٹو ممالک کی عدم دلچسپی پر سخت تنقید کرتے ہوئے اتحاد کو “یک طرفہ بوجھ” قرار دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو کے بیشتر رکن ممالک نے امریکا کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی فوجی مداخلت میں حصہ نہیں لینا چاہتے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے بھاری مالی بوجھ اٹھاتا ہے، مگر ضرورت کے وقت اسے خاطر خواہ تعاون نہیں ملتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوجی کارروائیوں نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور ایران کی بحریہ، فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ صدر کے مطابق ایرانی قیادت کو بھی ہر سطح پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
امریکی صدر نے زور دیا کہ ان کامیابیوں کے بعد امریکا کو نیٹو یا دیگر اتحادی ممالک جیسے جاپان، آسٹریلیا اور جنوبی کوریا کی مدد کی ضرورت نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا دنیا کی سب سے طاقتور قوت ہونے کے ناطے تنہا کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
وائٹ ہاؤس میں آئرلینڈ کے وزیر اعظم مائیکل مارٹن کے استقبال کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے “ایرانی فضائیہ کا مکمل خاتمہ” کر دیا ہے اور اب اسے آبنائے ہرمز یا خطے میں جاری کسی بھی کارروائی کے لیے بیرونی مدد درکار نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیٹو اتحادی ایران کے معاملے میں امریکا کا ساتھ دینے میں ناکام رہے ہیں اور واشنگٹن اس رویے کو فراموش نہیں کرے گا۔ ان کے بقول اتحادیوں کو امریکا کی ضرورت ہے، جبکہ امریکا کو کسی کی ضرورت نہیں۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر تھا، تاہم امریکی افواج نے ایران میں اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جزیرہ خارک میں تیل کی تنصیبات کو جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا ایک گھنٹے کے اندر ایران کی بجلی کا نظام معطل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایران میں ایک بہتر نظام حکومت قائم ہوگا اور فوجی کارروائیاں جلد اختتام پذیر ہوں گی

Add A Comment