واشنگٹن / یورپ:نیٹو کے فرانسیسی جنرل مائیکل یاکوفلیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کھلوانے کی اپیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ٹرمپ کا ساتھ دینا ایسا ہے جیسے آئس برگ سے ٹکرانے کے بعد ٹائٹینک کا ٹکٹ خریدنا۔
جنرل یاکوفلیو نے مزید کہا کہ یہ اقدام اتحادیوں کی جانب سے امریکا کی حمایت میں تاریخی نقصان ہے، اور اس سے نیٹو کے اندر اعتماد اور تعاون پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے نیٹو پر دباؤ ڈالا تھا کہ اگر اتحادی ممالک نے خطے میں فوجی مدد فراہم نہ کی تو نیٹو کا مستقبل خطرے میں ہے۔
صدر ٹرمپ نے دورانِ پرواز گفتگو میں کہا کہ "ہم ایران سے بات کر رہے ہیں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ تیار ہیں۔ انہوں نے ہفتے کے روز عالمی برادری، بشمول چین، فرانس، جاپان، جنوبی کوریا، برطانیہ اور دیگر ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے جنگی جہاز آبنائے ہرمز بھیجیں تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو سکے۔
تاہم، عالمی ردعمل مخمصے میں رہا۔ جاپان نے اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کیا، چین نے خاموشی اختیار کی، اور جنوبی کوریا نے کہا کہ وہ صورتحال کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔ فرانس اور برطانیہ پہلے ہی خطے میں اپنے بحری جہاز بھیجنے سے انکار کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، صدر ٹرمپ کی یہ کوشش عالمی سطح پر تناؤ اور عدم اتفاق کو بڑھا سکتی ہے اور نیٹو کے اندر اتحاد کے اہم پہلوؤں پر سوالات پیدا کر سکتی ہے۔ جنرل یاکوفلیو کا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ بعض اتحادی ممالک امریکا کی یکطرفہ اقدامات سے مطمئن نہیں ہیں اور انہیں خطے کی فوجی مداخلت میں حصہ لینے میں محتاط رویہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔
خطے میں کشیدگی جاری ہے اور عالمی طاقتیں مستقبل میں آبنائے ہرمز کے تحفظ کے حوالے سے اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی کر رہی ہیں۔
