امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کی درخواست پر نہایت “ٹھوس اور سنجیدہ” مذاکرات کیے ہیں اور وہ ان کے نتائج کے منتظر ہیں، جبکہ دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایسے کسی بھی رابطے کی تردید کر دی ہے۔
فلوریڈا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کے بنیادی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور بیشتر معاملات طے پا چکے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ان کے داماد جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام کے ساتھ طویل مذاکرات کیے، جو شام تک جاری رہے اور “انتہائی کامیاب” رہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو جاری جنگ بڑی حد تک ختم ہو سکتی ہے، تاہم ناکامی کی صورت میں امریکہ دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اسرائیل بھی ممکنہ معاہدے سے مطمئن ہوگا، جو خطے میں ایک نئی شروعات ثابت ہو سکتا ہ
امریکی صدر کے مطابق مجوزہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تہران افزودہ یورینیم کے ذخائر سے دستبردار ہونے اور ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنے کی شرط بھی زیرِ غور ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ کا ہدف ایران سے تمام حساس جوہری مواد کا خاتمہ ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
ایرانی قیادت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ انہیں قتل نہیں کرنا چاہتے، تاہم وہ انہیں ایران کا تسلیم شدہ لیڈر بھی نہیں مانتے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ ایران میں نظام کی تبدیلی کا عمل جاری ہے اور مستقبل میں کوئی نئی یا مشترکہ قیادت سامنے آ سکتی ہے۔
ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس پر ممکنہ حملوں کو 5 دن کے لیے مؤخر کر دیا ہے تاکہ مذاکرات کو موقع دیا جا سکے۔ اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ بات چیت “تعمیری اور مثبت” رہی ہے۔
ادھر سفارتی ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، جن میں عباس عراقچی بھی شامل ہیں۔ اس عمل میں ترکیہ، مصر اور پاکستان سمیت کئی ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے اپنے قریبی اتحادی اسرائیل کو بھی مذاکرات کی پیش رفت سے آگاہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی براہِ راست یا بالواسطہ مذاکرات کی سختی سے تردید کی ہے، تاہم یہ عندیہ دیا ہے کہ خطے کے بعض ممالک کی جانب سے تجاویز ضرور زیرِ غور ہیں۔ تہران کا مؤقف ہے کہ اس نے جنگ کا آغاز نہیں کیا اور وہ اپنے دفاع کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ایک جانب سفارتکاری جنگ کے خاتمے کی امید پیدا کر رہی ہے، تو دوسری جانب کسی بھی ناکامی کی صورت میں خطہ ایک بڑے اور طویل تنازع کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
