امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے دیے گئے سخت الٹی میٹم کے بعد روس نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے حل کے لیے فوری طور پر سیاسی اور سفارتی راستہ اپنانے پر زور دیا ہے۔
واضح رہے کہ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے 48 گھنٹوں کے اندر عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو نہ کھولا تو ایران کے بجلی گھروں کو “مٹا” دیا جائے گا۔ یہ ڈیڈ لائن پیر کے روز ختم ہونے والی ہے، جس کے باعث خطے میں بے چینی مزید بڑھ گئی ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے میڈیا بریفنگ میں واضح کیا کہ موجودہ بحران کا واحد حل سفارتکاری اور مذاکرات ہیں۔ ان کے مطابق
ہم سمجھتے ہیں کہ صورتحال کو سیاسی اور سفارتی تصفیے کی طرف لے جانا چاہیے، یہی واحد راستہ ہے جو اس تباہ کن کشیدگی کو کم کر سکتا ہے۔
پیسکوف نے خبردار کیا کہ اگر حالات اسی طرح جاری رہے تو یہ ایک سنگین سکیورٹی خطرے میں تبدیل ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔
روس نے خاص طور پر ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر ممکنہ خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جہاں روسی تعاون سے تعمیر کیا گیا ملک کا واحد فعال ایٹمی بجلی گھر موجود ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے مطابق گزشتہ دنوں اس مقام کو گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد عالمی سطح پر خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔
پیسکوف نے کہا کہ جوہری تنصیبات پر حملے “انتہائی خطرناک” ہیں اور ان کے نتائج ناقابلِ تلافی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ روس اس معاملے پر آئی اے ای اے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ کسی ممکنہ جوہری حادثے سے بچا جا سکے۔
اسی حوالے سے آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے بھی تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے جو جوہری حادثے کا سبب بن سکتا ہو۔
دریں اثنا، کریملن نے امریکی میڈیا پلیٹ فارم Politico کی اس رپورٹ کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ روس نے یوکرین کے معاملے پر امریکہ کی حمایت ختم کرنے کے بدلے ایران کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون روکنے کی پیشکش کی ہے۔
پیسکوف نے اس رپورٹ کو “بے بنیاد اور جھوٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش، جو عالمی تیل کی ترسیل کی ایک اہم شہ رگ سمجھی جاتی ہے، نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
روس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگی ماحول شدت اختیار کر چکا ہے، اور عالمی طاقتیں ایک ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔
