مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران چین نے فوری طور پر فوجی کارروائیاں روکنے اور تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں خطے کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنازع میں شامل تمام فریقین کو فوری طور پر جنگی سرگرمیاں بند کرنا ہوں گی تاکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید سنگین ہونے سے روکا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران ایک “خوفناک چکر” میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پورے خطے کو افراتفری اور عدم استحکام کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
چینی مؤقف میں واضح طور پر کہا گیا کہ طاقت کا استعمال صرف مزید تباہی اور عدم استحکام کو جنم دیتا ہے، اور یہ جنگ ابتدا ہی سے نہیں ہونی چاہیے تھی۔
بیجنگ نے زور دیا کہ اس پیچیدہ تنازع کا واحد مؤثر حل سفارتکاری اور سنجیدہ مذاکرات ہیں۔ چین نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے فوری اور مشترکہ اقدامات کرے۔
ماہرین کے مطابق چین کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، اور عالمی طاقتیں ایک بڑے تصادم کو روکنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
چین کی یہ اپیل عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ہر گزرتے دن کے ساتھ جنگ کے دائرہ کار کے وسیع ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے
