امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ “آپریشن ایپک فیوری” اپنے بنیادی مقاصد کے حصول کے انتہائی قریب پہنچ چکا ہے، جبکہ ایران کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی “غلط فہمی” سے گریز کرے ورنہ نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک اہم پریس بریفنگ کے دوران ترجمان کیرولین نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اولین ترجیح ہمیشہ امن رہی ہے، تاہم اگر حالات نے مجبور کیا تو امریکا مزید سخت اقدامات سے بھی گریز نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “مزید ہلاکتوں اور تباہی کی ضرورت نہیں، لیکن اگر ایران نے زمینی حقائق کو تسلیم نہ کیا تو امریکا تاریخ کا سب سے بڑا حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ترجمان کے مطابق موجودہ صورتحال میں ایرانی قیادت جنگ سے نکلنے کے راستے تلاش کر رہی ہے، جبکہ امریکا ہر ممکن سفارتی اور عسکری آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر ٹرمپ ایران کے خلاف پہلے سے کہیں زیادہ سخت کارروائی کے لیے تیار ہیں، اور اگر فوجی آپریشن مکمل ہوتا ہے تو عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی متوقع ہے۔
امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ یہ گزرگاہ عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس ایران سے متعلق ہونے والی تمام اہم مشاورت کا حصہ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی قیادت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
اسی بریفنگ میں بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ کی شی جن پنگ سے 14 اور 15 مئی کو اہم ملاقات متوقع ہے۔ اس کے علاوہ چینی صدر کے دورہ واشنگٹن کا بھی عندیہ دیا گیا ہے، تاہم اس کی حتمی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ ملاقات نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ عالمی سیاسی و معاشی منظرنامے کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نازک موڑ پر پہنچ چکی ہے، جہاں ایک طرف سفارتی بیانات جاری ہیں تو دوسری جانب عسکری تیاریوں کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کر سکتے ہیں۔
