امریکہ میں تعینات اماراتی سفیریوسف العتیبہ نے واضح کیا ہے کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں محض جنگ بندی کافی نہیں، بلکہ ایک جامع اور پائیدار حل ناگزیر ہے جو خطے میں دیرپا امن کو یقینی بنا سکے۔
اماراتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ حکام کے امریکا کے ساتھ مسلسل رابطے جاری ہیں، جن میں خطے کی سکیورٹی صورتحال اور بڑھتے ہوئے خطرات پر تفصیلی مشاورت کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات صرف عارضی جنگ بندی پر اکتفا نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایران سے درپیش خطرات کا مستقل اور مؤثر حل تلاش کرنے کا خواہاں ہے۔ اماراتی حکام نے خاص طور پر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق امارات نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس حوالے سے مستقل سکیورٹی انتظامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اس سلسلے میں سلطان احمد الجابر نے ہنگامی دورہ امریکا کیا، جہاں انہوں نے جے ڈی وینس سے ملاقات کی۔ ملاقات میں توانائی، سکیورٹی اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب انور قرقاش نے بھی ایرانی حملوں پر دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ان کا مؤثر جواب دینا ضروری ہے۔
اماراتی قیادت کے اس سخت مؤقف کو خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں علاقائی سکیورٹی پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
