ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک سخت اور جذباتی خطاب میں عالمی برادری کو جھنجھوڑتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف “دو ایٹمی طاقتوں” کی جانب سے غیر قانونی جنگ مسلط کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بیان اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں دیا، جہاں انہوں نے خطے کی بگڑتی صورتحال، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور سفارتی عمل کو سبوتاژ کرنے کے الزامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اس وقت ایک نازک اور خطرناک صورتحال سے گزر رہا ہے، جہاں اسے نہ صرف عسکری دباؤ کا سامنا ہے بلکہ سفارتی کوششوں کو بھی مسلسل نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ 9 ماہ کے دوران دو مرتبہ مذاکراتی عمل کو دانستہ طور پر سبوتاژ کیا گیا، حالانکہ ایران سنجیدگی کے ساتھ سفارتی راستہ اختیار کیے ہوئے تھا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا اور اسرائیل ایران اور خطے میں نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کے بقول، ہم پر اس وقت حملہ کیا گیا جب ہم بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کر رہے تھے، جو بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
عراقچی نے ایران کے شہر میناب میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے کا خصوصی ذکر کیا، جہاں معصوم بچیوں کی ہلاکت نے دنیا بھر میں تشویش پیدا کی۔ انہوں نے کہا کہ اسکول پر حملہ کسی بھی صورت قابلِ جواز نہیں اور یہ واقعہ ان حملوں کی صرف ایک مثال ہے جو شہری آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ رہائشی علاقوں، تیل کے ذخائر اور پانی کی تنصیبات پر بمباری کی جا رہی ہے، جو نہ صاف جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے بلکہ انسانی بحران کو بھی سنگین بنا رہا ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے فلسطین اور لبنان کی صورتحال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان علاقوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان واقعات کا نوٹس لے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی یقینی بنائے۔
عراقچی نے زور دیا کہ اگر عالمی ادارے خاموش رہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن و استحکام پر مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، شفافیت اور جوابدہی کے بغیر عالمی نظام کمزور ہو جائے گا۔
