امریکی مالیاتی نظام میں ایک غیر معمولی اور بحث طلب پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کرنسی نوٹوں سے متعلق ایک ایسا فیصلہ کیا گیا ہے جو ماضی کی روایات سے ہٹ کر ہے۔ اطلاعات کے مطابق اب پہلی مرتبہ ایسا ہوگا کہ امریکی کرنسی پر موجود روایتی دستخطی نظام میں بڑی تبدیلی کی جائے گی، جس کے تحت وزیرِ خزانہ کے دستخط کو ہٹا کر موجودہ صدر کے دستخط شامل کیے جائیں گے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اپنی آزادی کے 250 سال مکمل ہونے کا جشن منانے کی تیاری کر رہا ہے۔ اس تاریخی موقع کو یادگار بنانے کے لیے امریکی وزارتِ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ نئے چھاپے جانے والے نوٹوں پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شامل کیے جائیں گے، جو کہ امریکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اس پالیسی کے تحت سب سے پہلے 100 ڈالر کا نیا نوٹ متعارف کرایا جائے گا، جس پر نہ صرف صدر کے دستخط ہوں گے بلکہ اس کے بعد دیگر مالیت کے نوٹ بھی مرحلہ وار اسی طرز پر جاری کیے جائیں گے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ نوٹوں کے ڈیزائن میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی جائے گی، یعنی تصاویر، رنگ اور دیگر بصری خصوصیات جوں کی توں برقرار رہیں گی، تاہم دستخط کے حصے میں نمایاں رد و بدل ہوگا۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ امریکی کرنسی پر وزیرِ خزانہ کے دستخط شامل کرنے کی روایت تقریباً ڈیڑھ صدی سے جاری تھی، جس کا آغاز 1861 میں ہوا تھا۔ اس طویل سلسلے میں موجودہ سکریٹری خزانہ لن مالیریبا آخری شخصیت ہوں گی جن کے دستخط امریکی نوٹوں پر دیکھے جائیں گے۔ اس طرح ایک تاریخی روایت کا اختتام اور ایک نئے باب کا آغاز ہونے جا رہا ہے۔
اس وقت زیرِ استعمال کرنسی نوٹوں پر سابق وزیر خزانہ جینیٹ ییلن کے دستخط موجود ہیں، جو سابق صدر جو بائیڈن کے دورِ حکومت میں اس عہدے پر فائز تھیں۔ تاہم اب نئی پالیسی کے نفاذ کے بعد یہ دستخط بتدریج گردش سے باہر ہو جائیں گے اور ان کی جگہ صدر کے دستخط لے لیں گے۔
یہ تبدیلی محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں ایک وسیع تر حکمتِ عملی بھی کارفرما نظر آتی ہے۔ مبصرین کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ریاستی شناخت میں صدر کے کردار کو زیادہ نمایاں کیا جائے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر مختلف سرکاری عمارتوں، اداروں، حتیٰ کہ بحری جہازوں اور سکوں پر بھی صدر کا نام یا شناخت شامل کرنے کی تجاویز زیرِ غور رہی ہیں۔
مزید برآں، اس سے قبل ایک وفاقی تکنیکی کمیٹی کی جانب سے صدر ٹرمپ کی تصویر والا سونے کا یادگاری سکہ جاری کرنے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، جو اس رجحان کو مزید تقویت دیتا ہے۔ تاہم یہ امر بھی اہم ہے کہ امریکی قوانین کے تحت زندہ شخصیات کی تصاویر عام کرنسی سکوں پر شامل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی، جس کی وجہ سے ماضی میں ایسی کئی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔
اگرچہ امریکی فیڈرل ریزرو اور وزارتِ خزانہ کو کرنسی کے ڈیزائن میں تبدیلی کے وسیع اختیارات حاصل ہیں، مگر کچھ بنیادی اصول بدستور لاگو رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر "In God We Trust” جیسی عبارت کو ہر صورت برقرار رکھنا لازم ہے، جبکہ نوٹوں پر تصاویر کے حوالے سے یہ شرط عائد ہے کہ وہ صرف ایسے افراد کی ہوں جو وفات پا چکے ہوں۔
