ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست اور بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ ہو سکتا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب Pakistan ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کیلئے تیاری کر رہا ہے، جس کا مقصد ایک ماہ سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے۔
ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ انہیں معاہدے کی امید ہے، تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ ایسا نہ ہو۔ دوسری جانب ایک معروف بین الاقوامی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے تیل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرہ پر قبضے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ کام آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ جزیرہ ایران کی معیشت کیلئے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی جانب سے عندیہ دیا جا رہا ہے کہ مکمل جنگ سے گریز کیا جائے گا، تاہم Pentagon مختلف عسکری آپشنز پر غور کر رہا ہے اور خطے میں فوجی موجودگی بڑھا دی گئی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں حکومت کی تبدیلی میں کامیاب ہو چکے ہیں، جبکہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے پُرامید دکھائی دیے۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ اب پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیل چکی ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہونے سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور معیشتوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ادھر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر نے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کیلئے مختلف تجاویز پر غور کیا ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزرائے خارجہ نے موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ جاری تنازع خطے میں انسانی جانوں اور معیشت کیلئے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے۔
دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک طرف مذاکرات کے پیغامات دے رہا ہے اور دوسری طرف ممکنہ زمینی کارروائی کی تیاری بھی کر رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے فوجی اقدام کیا تو ایران بھرپور جواب دے گا اور کسی بھی دباؤ یا ذلت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارت کاری اور طاقت کے استعمال کے درمیان توازن قائم رکھنا عالمی قیادت کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جبکہ خطے میں امن کا دارومدار آنے والے دنوں میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات پر ہے۔
