ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ میں تعاون نہ کرنے والے یورپی ممالک پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے کے معاملے میں امریکا کسی بھی طرح مدد نہیں کرے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا اور اس ہدف میں کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا نے ایران کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے، جس سے اس کی جوہری اور عسکری صلاحیتیں مؤثر طریقے سے ختم ہو گئی ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز جیسے عالمی بحری گزرگاہ کے تحفظ کے لیے اس علاقے سے فائدہ اٹھانے والے ممالک خود آگے بڑھیں، کیونکہ اگر امریکا پوری طاقت کے ساتھ مداخلت کرے گا تو یہ گزرگاہ خود بخود کھل جائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکا کے پاس ایران کی جانب سے ممکنہ حملوں کا مؤثر جواب دینے کے لیے تمام ضروری دفاعی وسائل موجود ہیں اور امریکی دفاعی نظام ایرانی میزائلوں کا مکمل جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں کم از کم دس سال لگیں گے، کیونکہ اس کی عسکری اور جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ٹرمپ نے آخر میں عالمی امن کے لیے امریکا کے اقدامات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں آنے والے دنوں میں صورتحال مزید بہتر ہونے کی توقع ہے، اور امریکا ایران کے جوہری خطرے کو مکمل طور پر ختم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
