چین نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسرائیل کو ایک غیر معمولی اور سخت انتباہ جاری کیا ہے، جس نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے اور سفارتی حلقوں میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔
یہ بیان وکٹر ژیکائی گاؤ نے ایک ویڈیو انٹرویو میں دیا، جو سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر اور سابق سفارت کار ہیں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر اسرائیل کسی بھی ملک کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرتا ہے تو چین اس کے خلاف بھرپور اور فیصلہ کن ردعمل دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال صرف ایک ملک نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کیلئے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے، اور چین ایسی کسی بھی صورتحال کو برداشت نہیں کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اپنے خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور 28 فروری کے بعد سے خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اس دوران عالمی سطح پر ایٹمی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے خدشات بھی زور پکڑ رہے ہیں۔
وکٹر گاؤ کا یہ بیان اگرچہ سرکاری پالیسی کا باضابطہ اعلان نہیں، تاہم ماہرین اسے چین کے مجموعی مؤقف کی عکاسی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس قسم کے سخت بیانات عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے اس نوعیت کا انتباہ خطے میں جاری جنگ کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی طاقتیں بھی براہِ راست اس تنازع میں دلچسپی لینے لگتی ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو یہ کشیدگی ایک بڑے عالمی بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی امن بھی شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔
اس وقت دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا سفارتی کوششیں اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کر پائیں گی یا خطہ ایک بڑے اور خطرناک تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔
