ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادی ممالک کو سخت اور غیر معمولی پیغام دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکا اب ہر مشکل وقت میں ان کی مدد کیلئے آگے نہیں آئے گا، اور انہیں خود اپنے دفاع اور مفادات کا تحفظ کرنا ہوگا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے برطانیہ سمیت دیگر اتحادی ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں ایندھن درکار ہے تو وہ خود آبنائے ہرمز جا کر حاصل کریں یا امریکا سے خریدیں، لیکن اب امریکا پر مکمل انحصار ترک کرنا ہوگا۔
انہوں نے اتحادیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں انہوں نے امریکا کا ساتھ نہیں دیا، اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں خود سنبھالیں۔
ایک حالیہ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم انہیں توقع نہیں کہ تہران کسی معاہدے کیلئے جلد تیار ہوگا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال پر امریکا تقریباً سات ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے تاکہ اس اہم سمندری راستے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
ٹرمپ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسرائیل اس معاملے میں امریکا کے ساتھ تعاون کر رہا ہے، جبکہ دیگر اتحادی ممالک سے بھی فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔امریکی صدر نے نیٹو کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر رکن ممالک نے اس مسئلے پر تعاون نہ کیا تو اس اتحاد کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ سخت مؤقف عالمی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں امریکا اپنے اتحادیوں سے زیادہ خودمختاری اور ذمہ داری کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بیان کے بعد نہ صرف نیٹو بلکہ عالمی اتحادوں کی نوعیت پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
