امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی جنگی طیارے کی تباہی کے باوجود ایران کے ساتھ جاری مذاکرات متاثر نہیں ہوں گے اور سفارتی عمل جاری رکھا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ “یہ جنگ ہے اور ہم حالتِ جنگ میں ہیں، ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں”، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایک طیارے کے نقصان سے مذاکراتی عمل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے لاپتا عملے کے حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ فی الحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر عملے کے رکن کو نقصان پہنچا تو امریکہ کیا ردعمل دے گا۔
ایرانی میڈیا اور پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ایران نے تین امریکی جدید لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں، جن میں F-35 Lightning II بھی شامل ہے جسے وسطی ایران میں نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔
ایرانی رپورٹس میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے قریب A-10 Thunderbolt II کریش ہوا جبکہ قشم جزیرہ کے قریب ایرانی بحریہ نے ایک اور امریکی جنگی طیارہ گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسی دوران ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ گرنے والے طیاروں کے عملے کو بچانے کے لیے آنے والے دو امریکی ہیلی کاپٹروں پر بھی فائرنگ کی گئی۔
دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبر ایجنسی کو ایک امریکی لڑاکا طیارے کے گرنے کی تصدیق کی ہے، تاہم ایران کے دیگر دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ماہرین کے مطابق میدانِ جنگ میں بڑھتی ہوئی فضائی جھڑپوں کے باوجود سفارتی چینلز کا کھلا رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریق مکمل جنگ سے بچنے کے لیے بیک وقت عسکری اور سفارتی حکمتِ عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
