امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ کے ایک متنازع بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہوں نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی کو مذہبی رنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی حضرت عیسیٰ کے لیے لڑ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر نے جنگ میں کامیابی کے لیے کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو سے دعا کی درخواست بھی کی، جس پر ویٹی کن کی جانب سے واضح اور غیر معمولی ردعمل سامنے آیا۔
ویٹی کن کے سربراہ پوپ لیو نے اس مؤقف سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے لیے مذہب کا استعمال مسیحی تعلیمات کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی باتیں حضرت عیسیٰ کے پیغام اور طریقہ کار سے بالکل متصادم ہیں۔
پوپ لیو کے مطابق “غلبے کے لیے مذہب کو استعمال کرنا مسیحی مشن کو مسخ کرنے کے مترادف ہے”، اور خدا انسانوں کی زندگیاں تباہ کرنے کے بجائے انہیں سنوارنے اور بہتر بنانے کی تعلیم دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بیان اور اس پر آنے والے ردعمل نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی جاری کشیدگی کو ایک نیا زاویہ دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر مذہب اور جنگ کے تعلق پر بھی بحث کو تیز کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات صورتحال کو مزید حساس بنا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطہ پہلے ہی شدید سیاسی اور عسکری تناؤ کا شکار ہے
