ایران کے خلاف سخت اور متنازع بیانات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی ہی سیاسی قیادت کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جہاں کئی سینیئر سیاستدانوں نے انہیں “غیر متوازن” اور “خطرناک” قرار دے دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد امریکی رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکی آئین کی پچیسویں ترمیم کو نافذ کر کے صدر کو عہدے سے ہٹانے پر غور کیا جائے۔ اس ترمیم کے تحت صدر کی ذہنی یا جسمانی معذوری کی صورت میں کابینہ کی اکثریت کے ذریعے اختیارات نائب صدر کو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے کہا کہ ٹرمپ ذہنی عدم توازن کا شکار ہو چکے ہیں اور کانگریس کو فوری طور پر اقدام کرنا ہوگا۔ ان کے بقول “یہ معاملہ اب مزید تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا”۔
سینیٹ میں اقلیتی قائد چک شومر نے بھی صدر پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا ایسٹر کی تیاری کر رہی ہے، ٹرمپ سوشل میڈیا پر “بے قابو بیانات” دے رہے ہیں۔
ٹرمپ کی سابق حامی مارجوری ٹیلر گرین نے بھی حیران کن طور پر صدر سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ “اپنا توازن کھو چکے ہیں” اور ان کے قریبی ساتھیوں کو مداخلت کرنی چاہیے۔
امریکی سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ اگر وہ کابینہ کا حصہ ہوتے تو فوری طور پر پچیسویں ترمیم کے نفاذ کے لیے اقدامات شروع کر دیتے تاکہ ملک کو ممکنہ بحران سے بچایا جا سکے۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں ایران کو آبنائے ہرمز نہ کھولنے پر سنگین نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور ملک کو “قیامت جیسے حالات” کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی سیاست میں اس نوعیت کی کھلی تنقید غیر معمولی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران سے متعلق پالیسی پر نہ صرف عالمی بلکہ اندرونی سطح پر بھی شدید اختلافات موجود ہیں
