کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ برطانیہ کی جنگ نہیں تھی اور ان کی اولین ترجیح اپنے ملک کی حفاظت کو یقینی بنانا تھی، تاہم جنگ بندی کے باوجود خطے میں پائیدار امن کیلئے ابھی بہت کام باقی ہے۔
کنگ فہد ایئر بیس پر گفتگو کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے، لیکن اسے مستقل اور دیرپا بنانے کیلئے عالمی برادری کو مزید کوششیں کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا جس طرح کے امن کی خواہاں ہے، اس کے حصول کیلئے ابھی سفارتی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے، اور برطانیہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے۔
کیئر اسٹارمر نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کا کھلا رہنا عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کیلئے انتہائی ضروری ہے، اور اس مقصد کیلئے مختلف ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ جلد سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مشاورت کا عمل تیز کرے گا تاکہ مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے امن کو یقینی بنایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق برطانیہ کا یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یورپی ممالک اب صرف جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ خطے میں طویل مدتی استحکام کیلئے عملی اقدامات کی جانب بڑھ رہے ہیں
