شی جن پنگ نے ایک بار پھر تائیوان کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ چین کسی بھی صورت تائیوان کی آزادی کو قبول نہیں کرے گا اور نہ ہی اسے برداشت کیا جائے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بیجنگ میں تائیوان کی اپوزیشن رہنما چینگ لی وُن سے ملاقات کے دوران شی جن پنگ نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال مکمل طور پر پُرامن نہیں اور امن ایک نہایت قیمتی شے ہے، جس کے تحفظ کیلئے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے تائیوان کے دونوں اطراف رہنے والے لوگ ایک ہی قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور سب امن کے خواہاں ہیں۔ ان کے مطابق “جب خاندان میں ہم آہنگی ہوتی ہے تو ترقی اور خوشحالی خود بخود آتی ہے۔”
چینی صدر نے خبردار کیا کہ تائیوان کی آزادی کی کوششیں آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور چین اسے کسی صورت برداشت یا معاف نہیں کرے گا۔
اس موقع پر چینگ لی وُن نے کہا کہ دونوں اطراف کو مل کر ایک جدید اور خوشحال چینی معاشرہ تشکیل دینا چاہیے، جس سے خطے میں استحکام کو فروغ مل سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کا یہ سخت مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تائیوان کا مسئلہ بدستور بیجنگ کی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ ہے، اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کی نرمی کا امکان فی الحال کم دکھائی دیتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
