دنیا کے مختلف شہروں میں اسرائیل کی لبنان اور ایران میں جاری کارروائیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جہاں عوام نے جنگ کے خاتمے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔
ایتھنز میں مظاہرین نے اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے جمع ہو کر شدید احتجاج کیا اور اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔
دوسری جانب دی ہیگ میں ڈچ پارلیمنٹ کے سامنے غزہ اور لبنان سے اظہارِ یکجہتی کے دوران ایک شخص کو گرفتار بھی کر لیا گیا، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔
نیویارک میں بھی بڑی تعداد میں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جہاں مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔
اسی طرح برلن میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جبکہ پیرس میں ہونے والے علامتی احتجاج کے دوران اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینی قیدیوں کے خلاف منظور کیے گئے سخت قانون کی شدید مذمت کی گئی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا بھر میں ہونے والے یہ مظاہرے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال نے عالمی سطح پر عوامی ردعمل کو جنم دیا ہے، اور مختلف ممالک کے شہری اب کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں، جو عالمی سفارتکاری پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
