امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی جہاز امریکی بحری ناکہ بندی کے قریب آنے کی کوشش کریں گے تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔ امریکی صدر نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب خطے میں سمندری کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ ایران کی بحری طاقت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور ایرانی بحریہ کی ایک بڑی تعداد سمندر کی تہہ میں جا چکی ہے۔ ان کے مطابق ایران کے 158 بحری جہاز مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے جان بوجھ کر چند چھوٹی کشتیوں کو نشانہ نہیں بنایا کیونکہ ان سے کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں تھا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے تیز رفتار حملہ آور جہاز اب بھی ایک ممکنہ خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ جس طرح امریکہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث کشتیوں کے خلاف سمندر میں کارروائی کرتا ہے، اسی انداز میں ایران کے خلاف بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں انتہائی تیز اور فیصلہ کن نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سمندر کے راستے امریکہ میں آنے والی 98.2 فیصد منشیات کو روک دیا گیا ہے، جو کہ امریکہ کی بحری نگرانی کی کامیابی کی ایک بڑی مثال ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی اس صورتحال پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان نے امریکی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خلیجی خطے کی بندرگاہیں یا تو سب کے لیے محفوظ ہوں گی یا پھر کسی کے لیے بھی محفوظ نہیں رہیں گی۔ ایرانی ترجمان نے خبردار کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔
ایران نے امریکی بحری پابندیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں پر قدغنیں عائد کرنا غیر قانونی اور بحری قزاقی کے مترادف ہے۔ ایرانی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کی بندرگاہوں یا بحری راستوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
دریں اثنا امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ وہ تمام جہاز جو امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کریں گے، انہیں روکنے، راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کرنے یا قبضے میں لینے جیسی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بیان کے مطابق امریکی افواج خلیج عمان اور بحیرہ عرب کے علاقے میں آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں بحری ناکہ بندی نافذ کرنے جا رہی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ ناکہ بندی کسی مخصوص ملک تک محدود نہیں ہوگی بلکہ تمام جہازوں پر لاگو ہوگی، چاہے وہ کسی بھی ملک کے پرچم تلے سفر کر رہے ہوں۔ سینٹکام نے مزید کہا کہ جو بھی جہاز بغیر اجازت اس علاقے میں داخل ہوں گے یا وہاں سے گزرنے کی کوشش کریں گے، انہیں سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں انہیں روکنا، موڑنا یا قبضے میں لینا شامل ہو سکتا ہے۔
بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ یہ ناکہ بندی غیر جانبدار جہازوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کے لیے نہیں ہے اور آبنائے ہرمز کے راستے غیر ایرانی مقامات کی جانب جانے والے جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔ تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام جہازوں کو ہدایات کی پابندی کرنی ہوگی اور مقررہ قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جائے گی۔
