اٹلی میں پوپ سے متعلق بیانات پر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے، جہاں Ignazio La Russa نے وزیرِ اعظم Giorgia Meloni کے مؤقف کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اٹلی کبھی بھی سپریم پوپ کے خلاف کسی بھی قسم کے حملے یا توہین کو برداشت نہیں کرے گا۔
اطالوی میڈیا کے مطابق سینیٹ کے صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اطالوی قیادت پوپ کے خلاف کسی بیان یا اقدام کو قابلِ قبول سمجھے گی، وہ نہ اٹلی کو جانتے ہیں اور نہ ہی اس کی قیادت کو۔ انہوں نے زور دیا کہ پوپ اور اٹلی کے درمیان تعلقات نہایت گہرے، تاریخی اور اہم نوعیت کے حامل ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
Ignazio La Russa نے مزید کہا کہ ناقدین ان تعلقات کی حساسیت کو سمجھنے میں ناکام ہیں، جبکہ اٹلی اپنی مذہبی اور سفارتی روایات پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے امریکا کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی وضاحت کی کہ اٹلی دوطرفہ دوستی کو برقرار رکھے گا اور ان امور پر تعاون جاری رکھے گا جہاں دونوں ممالک کے مفادات ہم آہنگ ہیں۔
یاد رہے کہ اس تنازع کی بنیاد اس وقت پڑی جب وزیرِ اعظم Giorgia Meloni نے امریکی صدر Donald Trump کے پوپ لیو سے متعلق بیان کو “ناقابلِ قبول” قرار دیا تھا۔ بعد ازاں Donald Trump نے سخت ردعمل دیتے ہوئے میلونی پر تنقید کی اور کہا کہ ان کے بیانات نہیں بلکہ خود میلونی ہی ناقابلِ قبول ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات نہ صرف اٹلی اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ کا سبب بن سکتے ہیں بلکہ مذہبی اور سفارتی سطح پر بھی ایک نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔
