وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایک پریس کانفرنس میں واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات میں پاکستان کے کردار کو اہم اور قابلِ تحسین سمجھا جا رہا ہے، خاص طور پر جنگ بندی سے متعلق کوششوں میں اسلام آباد کی سفارتی سرگرمیوں کو سراہا گیا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان اس پورے مذاکراتی عمل میں ایک مرکزی اور واحد ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، جس نے دونوں فریقین کو بات چیت کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ترجمان نے اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا کہ آئندہ مذاکراتی مرحلہ ممکنہ طور پر پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے۔
کیرولین لیویٹ نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ امریکا کی بات چیت نہ صرف جاری ہے بلکہ اب تک اسے مثبت اور نتیجہ خیز قرار دیا جا رہا ہے، جس سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ صورتحال میں بہتری آ سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے ان خبروں کی تردید بھی کی جن میں یہ کہا جا رہا تھا کہ امریکا نے جنگ بندی میں توسیع کی کوئی درخواست دی ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور اگلے ہفتے کے اختتام پر اسلام آباد میں منعقد ہونے کا امکان ہے، جس کے لیے انتظامی اور سیکیورٹی سطح پر ابتدائی تیاریاں بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ متعلقہ اداروں کو اس اہم سفارتی پیش رفت کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق امریکی وفد کی ممکنہ قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جبکہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی وفد میں شامل ہوں گے۔ ایران کی جانب سے اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کی نمائندگی متوقع ہے۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے لیے تاحال کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس سے قبل پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو تقریباً 21 گھنٹے تک جاری رہنے کے باوجود کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا۔
اس پیش رفت کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ مذاکرات میں کچھ مثبت پیش رفت ضرور ہوئی ہے، امریکا نے اپنی تجاویز ایران کے سامنے رکھ دی ہیں اور اب اگلا قدم ایران کے فیصلے پر منحصر ہے۔
