ایران کے شہر مناب میں ایک اسکول پر ہونے والے حملے میں شہید ہونے والے بچوں کے والدین نے کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو کو خط لکھا ہے۔
خط میں والدین نے اپنے شہید بچوں کی آواز بننے پر پوپ لیو کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کا پیغام کہ ہتھیار رکھ دیے جائیں، ضرور سنا جائے گا اور اس پر توجہ دی جانی چاہیے۔
والدین نے اپنے خط میں یہ بھی کہا کہ حملے کے بعد ابھی تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس واقعے پر باضابطہ معذرت سامنے نہیں آئی، جو ان کے مطابق ایک تشویشناک امر ہے۔
یاد رہے کہ اٹھائیس فروری کو مناب میں ایک اسکول پر حملے کے نتیجے میں، جس کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل سے منسوب کی جا رہی ہے، بچیوں سمیت ایک سو ساٹھ سے زائد افراد شہید ہوئے تھے، جبکہ بعد ازاں بعض اطلاعات کے مطابق یہ تعداد بڑھ کر ایک سو پینسٹھ تک پہنچ گئی۔
دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے قومی یومِ دختران کے موقع پر اپنے پیغام میں ملک کی بیٹیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور مناب اسکول کے واقعے میں شہید ہونے والی معصوم بچیوں پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بچیاں رمضان کے دوران مسلط کردہ جنگ کے پہلے ہی دن مار دی گئیں، اور ایرانی قوم کو یقین رکھنا چاہیے کہ ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور اس کا ضرور حساب لیا جائے گا۔
حکام کے مطابق اس واقعے نے نہ صرف ایران میں بلکہ عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل پیدا کیا ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کی جانب سے انصاف اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
