امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہو سکا تو جنگ بندی میں مزید توسیع کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں اور ایسی صورت میں جنگ یقینی ہو سکتی ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ بندی بدھ کی شام تک ختم ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اس دوران کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو حالات دوبارہ جنگ کی طرف جا سکتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی جلد بازی میں نقصان دہ معاہدہ نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی دباؤ میں آ کر فیصلہ کریں گے۔ ان کے مطابق امریکا کے پاس وقت کی کمی نہیں اور وہ بہتر نتائج کے لیے انتظار کر سکتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو فوری طور پر لڑائی شروع ہو سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں شدید بمباری دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کو مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے کیونکہ اس پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران مذاکرات میں شامل نہیں ہوتا تو یہ بھی ایک واضح پیغام ہوگا۔
انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہییں اور امریکا اس معاملے پر کسی قسم کی نرمی دکھانے کے لیے تیار نہیں۔
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے ایک مضبوط اور اعلیٰ سطحی وفد بھیجا ہے اور امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران تنازع کے خاتمے کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو وہ خود بھی ایرانی قیادت سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، اور اس بات پر زور دیا کہ امریکا ایران میں مؤثر اور بااختیار حلقوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور آنے والے دن نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر بھی اہم ثابت ہو سکتے ہیں
