نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار اور ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا ہے جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور سفارتی پیش رفت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق عباس عراقچی نے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کو سفارتی عمل میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گا۔
گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے زیرِ التوا مسائل کو جلد از جلد حل کرنا ناگزیر ہے، اور اس مقصد کے لیے مسلسل بات چیت اور رابطے کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔
دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ کشیدہ صورتحال میں قریبی رابطہ اور مکالمہ جاری رکھا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے اور پائیدار امن کی راہ ہموار ہو۔
دوسری جانب عباس عراقچی نے اپنے روسی ہم منصب سے بھی گفتگو کی، جس میں انہوں نے امریکا کے طرزِ عمل کو غیر قانونی اور تضاد پر مبنی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا رویہ سفارت کاری کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ایرانی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران امریکا کے اقدامات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مناسب اور بروقت فیصلہ کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان یہ رابطے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، اور سفارتی کوششیں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں
