امریکا کے صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایران میں سزائے موت کی منتظر مبینہ آٹھ خواتین کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان خواتین کو فوری طور پر نقصان سے محفوظ رکھا جائے اور رہا کیا جائے۔
سماجی رابطے کی ویب گاہ پر ایک اسرائیل کے حمایتی کارکن کی جانب سے شیئر کی گئی ایک تحریر کو آگے بڑھاتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایرانی قیادت کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ وہ ان خواتین کی رہائی کو سراہیں گے، اور یہ اقدام ممکنہ مذاکرات کے لیے ایک مثبت آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ان خواتین کو کسی بھی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے۔
شیئر کی گئی تحریر میں ان آٹھ خواتین کی تصاویر بھی شامل تھیں، تاہم جاری کردہ معلومات کے مطابق ان میں سے صرف ایک خاتون کی شناخت ہو سکی ہے، جو رواں برس حکومت مخالف مظاہروں میں شریک رہی تھی، جبکہ دیگر خواتین کے بارے میں واضح معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔
دوسری جانب امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی اس بات کی تصدیق نہ ہونے کا ذکر کیا ہے کہ آیا یہ تمام خواتین واقعی ایران میں قید ہیں یا نہیں۔
ادھر ایرانی عدلیہ نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے واضح طور پر تردید کی ہے کہ کسی آٹھ خواتین کو سزائے موت دی گئی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکی صدر کو ایک بار پھر غلط یا گمراہ کن معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی عدلیہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جن خواتین کا ذکر کیا جا رہا ہے، ان میں سے بعض کو پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے، جبکہ دیگر کے خلاف اگر کوئی مقدمات ہیں بھی تو ان میں سزائے قید دی جا سکتی ہے، نہ کہ سزائے موت۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے بیانات نہ صرف سفارتی ماحول پر اثر انداز ہوتے ہیں بلکہ حساس حالات میں غلط معلومات کشیدگی میں اضافہ بھی کر سکتی ہیں

Add A Comment