امریکا کے وزیرِ بحریہ جان سی فیلن کو اچانک عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے، تاہم ان سے فوری طور پر استعفیٰ لینے کی وجوہات سامنے نہیں لائی گئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر دو ہزار چوبیس میں جان سی فیلن کو اس منصب کے لیے نامزد کیا تھا۔ اس وقت ان پر یہ تنقید کی گئی تھی کہ انہیں بحریہ، فوجی امور یا قومی سلامتی سے متعلق خاطر خواہ تجربہ حاصل نہیں۔
بعد ازاں فیلن فروری دو ہزار پچیس میں سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے، جبکہ مارچ دو ہزار پچیس میں انہیں اکثریتی ووٹوں سے اس عہدے پر توثیق دی گئی تھی۔
برطرفی کے بعد اب انڈر سیکرٹری ہنگ کاؤ قائم مقام وزیرِ بحریہ کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
واضح رہے کہ وزیرِ بحریہ کا عہدہ امریکی بحریہ کے انتظامی، مالی اور پالیسی معاملات کی نگرانی کے حوالے سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
اس سے قبل بھی ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران امریکی وزیرِ دفاع نے فوجی قیادت میں تبدیلی کرتے ہوئے آرمی چیف آف اسٹاف سے استعفیٰ لیا تھا، جس کے بعد اعلیٰ عسکری سطح پر نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئی تھیں

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment