بدھ کے روز اٹلی اور روس کے درمیان سفارتی سطح پر ایک نیا تنازع اس وقت سامنے آیا جب روم میں تعینات روسی سفیر کو اطالوی حکومت کی جانب سے طلب کیا گیا۔ یہ پیش رفت ایک روسی سرکاری ٹی وی پروگرام میں نشر ہونے والے متنازع بیان کے بعد سامنے آئی، جس میں ایک معروف روسی میزبان نے اطالوی وزیر اعظم کے خلاف نہایت نامناسب اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے تھے۔
اطالوی وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے روسی سفیر الیکسی پیرامونوف سے ملاقات کے دوران سخت ردِعمل دیتے ہوئے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی سرکاری نشریاتی ادارے سے وابستہ شخصیت کی جانب سے ایک جمہوری ملک کی منتخب قیادت کے خلاف اس نوعیت کی زبان کا استعمال ناقابلِ برداشت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ سیاسی اختلاف اور تنقید جمہوری معاشروں کا حصہ ہیں، تاہم ذاتی حملے، خاص طور پر صنفی بنیاد پر کی جانے والی توہین، کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب روسی سرکاری چینل “روس ون” پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں میزبان ولادی میر سولوفیوو نے اطالوی وزیر اعظم کے بارے میں سخت اور غیر مہذب ریمارکس دیے۔ انہوں نے نہ صرف انہیں سیاسی طور پر نشانہ بنایا بلکہ ان کی شخصیت اور ظاہری خدوخال پر بھی تنقید کرتے ہوئے غیر شائستہ الفاظ استعمال کیے، جس پر اٹلی میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔
اطالوی خبر رساں ادارے انسا کے مطابق، تاجانی نے واضح کیا کہ اٹلی ایک آزاد اور جمہوری ملک ہے جہاں اظہارِ رائے کی آزادی کو اہمیت دی جاتی ہے، لیکن اس آزادی کو کسی کی تذلیل یا کردار کشی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اس واقعے کو نہ صرف سیاسی بلکہ اخلاقی حدوں کی خلاف ورزی بھی قرار دیا۔
دوسری جانب روسی سفیر الیکسی پیرامونوف نے اطالوی حکومت کے اس اقدام کو غیر ضروری اور غلط قرار دیتے ہوئے اسے ایک “سنگین غلطی” کہا۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایک ٹی وی اینکر کے ذاتی خیالات کو ریاستی پالیسی یا سرکاری مؤقف سمجھنا درست نہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا میں کام کرنے والے افراد کے بیانات کو حکومت سے منسوب کرنا ایک غیر منطقی رویہ ہے اور اس طرح کے معاملات کو سفارتی سطح تک لے جانا مناسب نہیں۔
پیرامونوف نے مزید کہا کہ ایک سمجھدار شخص یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ ٹیلی ویژن پر پیش کیے جانے والے خیالات اکثر انفرادی نوعیت کے ہوتے ہیں، جنہیں ریاستی موقف کے طور پر نہیں لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اطالوی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے اور اسے ایک بہانے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات میں میڈیا کے بیانات کس حد تک حساسیت پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب ان میں ذاتی نوعیت کے حملے شامل ہوں۔
