افریقی ملک گیبون میں ایک امریکی کروڑ پتی شکاری ہاتھیوں کے حملے میں ہلاک ہو گیا، جس کے بعد ٹرافی شکار اور جنگلی حیات کے تحفظ پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق 75 سالہ امریکی شہری ارنی ڈوزیو، جو ریاست کیلیفورنیا کے رہائشی اور ایک انگور کے باغ کے مالک تھے، گیبون کے لاؤپے اوکانڈا کے جنگلات میں شکار کی غرض سے موجود تھے۔ وہ ہرن کے شکار کے دوران اپنے مقامی رہنما کے ہمراہ تھے کہ اچانک پانچ مادہ ہاتھی اپنے بچے کے ساتھ ان کے قریب آ گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جیسے ہی شکاری ٹیم ہاتھیوں کے زیادہ قریب پہنچی، جانوروں نے اپنے بچے کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے حملہ کر دیا۔ اس اچانک حملے کے نتیجے میں ارنی ڈوزیو موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ان کا رہنما شدید زخمی ہو گیا جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
سفاری کمپنی "کلیکٹ افریقہ” نے اپنے مؤکل کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ غیر متوقع تھا۔ تاہم مقامی ماہرین کے مطابق ہاتھی خاص طور پر اس وقت انتہائی حساس اور جارحانہ ہو جاتے ہیں جب ان کے ساتھ بچے موجود ہوں۔
گیبون کے گھنے جنگلات افریقی ہاتھیوں کی بڑی آبادی کے لیے مشہور ہیں، جہاں یہ جانور قدرتی ماحول میں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ارنی ڈوزیو کو طویل عرصے سے بڑے جانوروں کے شکار کا شوق تھا اور ان کے پاس مختلف جانوروں کے نایاب شکار کی یادگاریں بھی موجود تھیں۔
واقعے کے بعد امریکی سفارت خانے نے لاش کو وطن واپس منتقل کرنے کے انتظامات شروع کر دیے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے نے ایک بار پھر ٹرافی شکار کے اخلاقی اور ماحولیاتی اثرات پر عالمی سطح پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
