امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں پیش آنے والا فائرنگ کا واقعہ انہیں ایران کے خلاف پالیسی سے نہیں روک سکتا، تاہم ان کے مطابق بظاہر اس واقعے کا ایران سے کوئی براہِ راست تعلق نظر نہیں آتا۔
خبر رساں اداروں کے مطابق واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایسی صورتحال ان کے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک دستیاب معلومات کے مطابق اس واقعے کا ایران سے تعلق ثابت نہیں ہوا، تاہم مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
واضح رہے کہ ہفتے کی رات وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد تقریب کو فوری طور پر ملتوی کر دیا گیا اور صدر کو بحفاظت مقام سے منتقل کر دیا گیا۔ امریکی سکیورٹی ادارے سیکرٹ سروس کے مطابق واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
فائرنگ کے واقعے سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں ایران کی داخلی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایرانی قیادت اندرونی کشمکش کا شکار ہے اور تنازع کے حل کے لیے پیش کی گئی تجاویز ابھی امریکی توقعات کے مطابق نہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کے لیے امریکی وفد کا دورہ منسوخ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع کی جائے گی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا فی الحال جنگ کے حوالے سے کوئی نیا فیصلہ نہیں کر رہا اور صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پس منظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے حالیہ کشیدگی کے دوران اہم سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے جنگ بندی میں مدد فراہم کی تھی، جبکہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق فائرنگ کا واقعہ، جاری سفارتی تعطل اور خطے کی کشیدہ صورتحال مل کر ایک پیچیدہ منظرنامہ تشکیل دے رہے ہیں، جس میں آئندہ پیش رفت غیر یقینی دکھائی دیتی ہے

یہ بھی پڑھیں
Add A Comment