امریکا میں آئندہ یومِ آزادی کی 250ویں سالگرہ کے موقع پر ایک ایسا اقدام سامنے آیا ہے جس نے سیاسی اور عوامی حلقوں میں غیر معمولی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ اس تاریخی موقع کو یادگار بنانے کے لیے خصوصی پاسپورٹس جاری کیے جائیں گے، جن کے ڈیزائن میں ایک نمایاں اور غیر روایتی تبدیلی شامل ہوگی۔ ان پاسپورٹس کے اندرونی صفحات پر موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر شامل کی جائے گی، جو اس سے پہلے امریکی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا۔
محکمہ خارجہ کے مطابق یہ پاسپورٹس محدود تعداد میں تیار کیے جا رہے ہیں اور ان کا اجرا جولائی میں متوقع ہے، جب امریکا اپنے قیام کے 250 سال مکمل کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد اس اہم قومی موقع کو ایک منفرد انداز میں منانا ہے۔ سرکاری سطح پر جاری کیے گئے نمونے میں دکھایا گیا ہے کہ پاسپورٹ کے اندرونی صفحات پر نہ صرف ٹرمپ کی تصویر موجود ہے بلکہ اس کے ساتھ ان کے سنہری دستخط بھی شامل کیے گئے ہیں، جس سے اسے ایک یادگاری حیثیت دی گئی ہے۔
اس ڈیزائن میں صرف موجودہ صدر ہی کو نمایاں نہیں کیا گیا بلکہ امریکی تاریخ کے ایک اہم لمحے کی جھلک بھی پیش کی گئی ہے۔ پاسپورٹ کے صفحات پر 4 جولائی 1776 کے اعلانِ آزادی کے وقت کے بانیانِ امریکا کی تصاویر بھی شامل کی گئی ہیں، تاکہ ماضی اور حال کو ایک ہی دستاویز میں یکجا کیا جا سکے۔ اس طرح یہ پاسپورٹ ایک طرف تاریخی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے تو دوسری جانب موجودہ قیادت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ کسی حاضر سروس امریکی صدر کی تصویر پاسپورٹ پر شامل کی جا رہی ہے۔ ماضی میں پاسپورٹس کے ڈیزائن میں عام طور پر تاریخی شخصیات، قومی ورثے، یا قدرتی مناظر کو جگہ دی جاتی رہی ہے۔ اس روایت کے برعکس موجودہ اقدام کو ایک نمایاں تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ خصوصی پاسپورٹس عام سطح پر دستیاب نہیں ہوں گے بلکہ ان کا اجرا صرف دارالحکومت واشنگٹن میں کیا جائے گا اور ان کی تعداد بھی محدود رکھی جائے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ زیادہ تر یادگاری اور علامتی نوعیت کا منصوبہ ہے، نہ کہ روزمرہ استعمال کے لیے وسیع پیمانے پر جاری کیا جانے والا اقدام۔
اسی سلسلے میں ایک اور منصوبہ بھی زیر غور ہے جس کے تحت ٹرمپ کی تصویر والا یادگاری سونے کا سکہ جاری کیا جائے گا۔ یہ سکہ بھی 250ویں سالگرہ کی تقریبات کا حصہ ہوگا اور اسے ایک علامتی یادگار کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ کی واپسی کے بعد دارالحکومت واشنگٹن میں کچھ اہم عمارتوں کے نام بھی ان سے منسوب کیے جا چکے ہیں۔ ان میں معروف ثقافتی مرکز اور ایک اہم تحقیقی ادارہ شامل ہیں، جن کے ناموں میں تبدیلی کو بھی اسی سلسلے کی کڑی سمجھا جا رہا ہے جس میں موجودہ قیادت کو زیادہ نمایاں کیا جا رہا ہے۔
آئندہ تقریبات کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگست کے مہینے میں واشنگٹن میں ایک بڑی ریسنگ ایونٹ منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جو 21 سے 23 اگست کے درمیان ہوگی۔ یہ سرگرمی بھی 250ویں سالگرہ کے جشن کا حصہ ہوگی اور اس کا مقصد عوامی دلچسپی کو بڑھانا اور تقریبات کو مزید متحرک بنانا ہے۔
تاہم اس فیصلے پر سیاسی سطح پر شدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے کئی اراکین نے اس اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومتی وسائل کو اس طرح کے اقدامات پر خرچ کرنے کے بجائے زیادہ اہم قومی اور بین الاقوامی مسائل پر توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے وزیر خارجہ پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انہیں خارجہ پالیسی کے اہم معاملات پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔
تنقید کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس اقدام سے ایک ایسی روایت کو فروغ مل سکتا ہے جو جمہوری اقدار سے مطابقت نہیں رکھتی، کیونکہ عام طور پر ریاستی دستاویزات کو کسی ایک شخصیت کے ساتھ اس حد تک منسلک نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ٹیکس دہندگان کے وسائل کو زیادہ ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں پاسپورٹس کے ڈیزائن میں عام طور پر تاریخی ورثہ، ثقافتی علامات یا قدرتی مناظر شامل کیے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسے ممالک جہاں قیادت کی شخصیت کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، وہاں بھی پاسپورٹس میں حکمرانوں کی تصاویر شامل نہیں کی جاتیں۔ اس تناظر میں امریکا کا یہ اقدام مزید غیر معمولی محسوس ہوتا ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف ایک علامتی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ اس نے سیاسی، سماجی اور عوامی سطح پر ایک وسیع بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ ایک طرف اسے ایک منفرد یادگاری قدم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب اسے غیر ضروری اور متنازع فیصلہ بھی کہا جا رہا ہے،
