مغربی آسٹریلیا کے دور دراز علاقے کمبرلے میں ایک غیر معمولی اور خطرناک مہم کے دوران برطانوی نژاد آسٹریلوی الٹرا میراتھون تیراک اینڈی ڈونلڈسن نے عالمی سطح پر ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ یہ کارنامہ دریائے اورد میں انجام دیا گیا، جو اپنی قدرتی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ خطرناک جنگلی حیات خصوصاً مگرمچھوں کی موجودگی کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔
یہ دریا تقریباً 55 کلومیٹر کے فاصلے پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں بڑی تعداد میں تازہ پانی کے مگرمچھ موجود ہیں، جن کی تعداد اندازاً 5500 بتائی جاتی ہے۔ بعض مقامات پر صورتحال اس قدر خطرناک ہے کہ ہر چند میٹر کے فاصلے پر مگرمچھ دیکھے جا سکتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تیراکی دنیا کی سب سے زیادہ خطرناک کھلے پانی کی تیراکیوں میں شمار ہوتی ہے۔
اینڈی ڈونلڈسن نے اس انتہائی مشکل چیلنج کو اکیلے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان کے مطابق اس مہم کی تیاری کئی ماہ پہلے شروع کر دی گئی تھی اور ٹیم نے دریا کے ماحول، پانی کے بہاؤ، درجہ حرارت اور جنگلی حیات کے رویے کا تفصیلی جائزہ لیا تاکہ خطرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اگرچہ وہاں صرف مگرمچھ ہی نہیں بلکہ دیگر جنگلی جانور جیسے عقاب اور لومڑیاں بھی موجود ہیں، تاہم اصل خطرہ مگرمچھوں کی موجودگی کو سمجھا جاتا ہے۔
انہوں نے اپنی تیراکی کا آغاز صبح 5 بج کر 38 منٹ پر کیا اور مسلسل 11 گھنٹے اور 52 منٹ تک پانی میں رہتے ہوئے یہ طویل فاصلہ طے کیا۔ اس دوران انہیں شدید جسمانی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ کھلے پانی میں مسلسل تیراکی نہ صرف تھکا دینے والی ہوتی ہے بلکہ خطرات بھی ہر لمحہ موجود رہتے ہیں۔
درجہ حرارت جیسے جیسے بڑھتا گیا، حالات مزید مشکل ہوتے گئے۔ دوپہر کے وقت جب درجہ حرارت 34 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تو ان کی معاون کشتیوں نے انہیں سایہ فراہم کرنے کی کوشش کی تاکہ ان کی کارکردگی برقرار رکھی جا سکے۔ اس کے باوجود پانی کی نوعیت اور لمبے فاصلے نے جسم پر اضافی دباؤ ڈالا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ میٹھے پانی میں نمکیات کی کمی کے باعث جسم کو تیرنے اور حرکت دینے میں زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے، جس سے تھکن تیزی سے بڑھتی ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود اینڈی نے اپنی رفتار اور حوصلہ برقرار رکھا اور بغیر کسی بڑے وقفے کے مسلسل تیراکی جاری رکھی۔
آخرکار انہوں نے شام 5 بج کر 29 منٹ پر اپنی مہم مکمل کی اور مقررہ 55 کلومیٹر کا فاصلہ کامیابی سے طے کر کے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ اس کارنامے کے ذریعے انہوں نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا، جو 2024 میں سیمون بلیزر نے 16 گھنٹے سے زائد وقت میں مکمل کیا تھا۔
ریکارڈ مکمل کرنے کے بعد اینڈی ڈونلڈسن نے اپنے تجربے کو غیر معمولی اور یادگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سفر ان کے لیے ایک “جادوئی تجربہ” تھا۔ ان کے مطابق خطرات کے باوجود اس قدرتی ماحول میں تیراکی کرنا ایک منفرد احساس تھا، جو زندگی بھر یاد رہے گا۔
ان کی ٹیم کے مطابق اس مہم کا مقصد نہ صرف ریکارڈ قائم کرنا تھا بلکہ انسانی برداشت، مہارت اور قدرتی ماحول کے ساتھ ہم آہنگی کو بھی جانچنا تھا۔ تیاری کے دوران ہر ممکن حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے، تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔
یہ کارنامہ دنیا بھر میں کھلے پانی کی تیراکی کے شوقین افراد کے لیے ایک نئی مثال بن گیا ہے، جس نے ثابت کیا ہے کہ سخت ترین حالات میں بھی انسانی عزم اور تیاری کے ذریعے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
