واشنگٹن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے پینٹاگون کی بریفنگز پر اٹھائے گئے سوالات نے دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے، جہاں جنگی معلومات کی شفافیت اور درستگی پر سنجیدہ خدشات سامنے آ رہے ہیں۔
امریکی جریدے “دی اٹلانٹک” کی رپورٹ کے مطابق نائب صدر نے متعدد بند کمرہ اجلاسوں میں یہ معاملہ شدت سے اٹھایا کہ آیا پینٹاگون صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جنگ سے متعلق مکمل، غیر جانبدار اور حقیقت پر مبنی معلومات فراہم کر رہا ہے یا نہیں۔
ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس نے نہ صرف بریفنگز کے معیار پر سوال اٹھایا بلکہ امریکی میزائل ذخائر میں ممکنہ کمی پر بھی گہری تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے اس حساس معاملے سے صدر ٹرمپ کو بھی آگاہ کیا اور اسے قومی سلامتی کے تناظر میں ایک اہم خطرہ قرار دیا۔
رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ وزیرِ جنگ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگز کا انداز اکثر صدر کی ترجیحات اور پالیسی رجحانات کے مطابق ڈھالا جاتا ہے، جس سے معلومات کی غیر جانبداری پر سوال کھڑے ہو رہے ہیں۔ اس پہلو پر نائب صدر نے خصوصی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اگر بریفنگز میں حقائق کو مکمل طور پر پیش نہ کیا جائے تو اس سے نہ صرف حکومتی فیصلے متاثر ہوتے ہیں بلکہ جنگی حکمت عملی اور عالمی سطح پر امریکی ساکھ بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال امریکی دفاعی اداروں اور سیاسی قیادت کے درمیان اعتماد کے فقدان کی نشاندہی کرتی ہے، جو مستقبل میں پالیسی سازی، عسکری حکمت عملی اور عالمی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
