اقوامِ متحدہ کی فنڈنگ پر امریکہ کی نئی شرائط، اصلاحات کے بغیر ادائیگی سے انکارکردیا
ایک بین الاقوامی ترقیاتی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اقوام متحدہ کو واجب الادا اربوں ڈالر کی ادائیگی کے لیے سخت شرائط عائد کر دی ہیں، جن میں اخراجات میں کمی اور عالمی ادارے میں چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے سفارتی سطح پر دو اہم نوٹس جاری کیے ہیں، جن میں فنڈز جاری کرنے سے قبل نو "فوری اصلاحات” پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اہم مجوزہ اصلاحات:
اقوامِ متحدہ کے پنشن سسٹم میں مکمل تبدیلی
طویل فاصلے کے بزنس کلاس سفر کی سہولت کا خاتمہ
سینئر عہدوں میں کمی
غیر مؤثر امن مشنز میں 10 فیصد کمی
سیکریٹری جنرل کے صوابدیدی فنڈ میں چین کی مالی معاونت روکنا ہے
امریکی مؤقف کے مطابق یہ اصلاحات اس بات کا ثبوت ہوں گی کہ اقوامِ متحدہ خود کو مؤثر اور شفاف بنانے میں سنجیدہ ہے۔
دوسری جانب چین نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی مشکلات کی بنیادی وجہ خود امریکہ کی جانب سے واجب الادا رقوم کی عدم ادائیگی ہے۔ چینی مشن نے زور دیا کہ تمام رکن ممالک کو اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے واضح کیا کہ رکن ممالک کی جانب سے مالی تعاون ایک "معاہداتی ذمہ داری” ہے، جبکہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس پہلے ہی تنظیم میں وسیع اصلاحات پر کام کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ رواں سال کے آغاز میں اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا تھا کہ عدم ادائیگی کے باعث ادارہ مالی بحران کے قریب پہنچ چکا ہے۔ فروری تک امریکہ پر اقوامِ متحدہ کے باقاعدہ بجٹ کے لیے 2.19 ارب ڈالر واجب الادا تھے، جو مجموعی بقایا جات کا تقریباً 95 فیصد بنتے ہیں۔
مزید برآں امن مشنز کے لیے 2.4 ارب ڈالر اور ٹربیونلز کے لیے 43.6 ملین ڈالر بھی امریکہ کے ذمے باقی ہیں، جس نے عالمی ادارے کی مالی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
