واشنگٹن: نے جنگ بندی کے مستقبل پر غیر یقینی کا اظہار کرتے ہوئے کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا عندیہ دے دیا۔
اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں فی الحال جنگ بندی ختم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، تاہم یہ امکان موجود ہے کہ مستقبل میں اس کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن پہلے شروع ہونا چاہیے تھا اور دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کی 90 فیصد میزائل فیکٹریاں تباہ کر چکا ہے۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران پر عائد پابندیاں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں اور ایرانی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور دعویٰ کیا کہ تہران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔
انہوں نے ایرانی قیادت میں غیر یقینی صورتحال کو بھی ایک بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ “کسی کو معلوم نہیں کہ اصل فیصلہ ساز کون ہے۔”
گفتگو کے دوران امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کو فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت کی اجازت دی جانی چاہیے۔
نے ایک بار پھر اور کے درمیان کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے متعدد جنگیں رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں پاک-بھارت تنازع بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق اس کشیدگی کے دوران 11 طیارے تباہ ہوئے اور انہوں نے لاکھوں جانیں بچانے میں کردار ادا کیا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں فوری کمی آ سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس راستے پر زیادہ انحصار نہیں کرتا کیونکہ اس کے پاس اپنے وافر توانائی وسائل موجود ہیں۔
