ایران کے وزیر خارجہ آج اہم دورے پر عباس عراقچی آج چین روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب سے دو طرفہ تعلقات سمیت خطے اور دنیا کو درپیش اہم مسائل پر تبادلۂ خیال کریں گے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ایران اور چین کے وزرائے خارجہ علاقائی کشیدگی، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی سفارتی پیش رفت پر بھی تفصیلی گفتگو کریں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران عالمی سطح پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ چین خطے میں ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے حوالے سے نسبتاً نرم مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیجنگ کے ساتھ محاذ آرائی کے بجائے بہتر تعلقات قائم کرنا زیادہ سود مند ہے۔
امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین کے درمیان تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط روابط قائم ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایک جانب ایران اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا سفارتی تعاون، اور دوسری جانب امریکا کی جانب سے چین کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش، عالمی سیاست میں ایک نئی توازن کی صورتحال کو ظاہر کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت آنے والے دنوں میں عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات اور پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
