ایرانی خبر رساں ایجنسی “فارس” نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں دو امریکی تجارتی جہاز سمندری پتھریلے علاقے میں پھنس گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ دونوں کمرشل جہاز امریکی ہدایات پر آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ عمان کے ساحل کے قریب ایک اتھلے اور پتھریلے علاقے میں پھنس گئے۔ خبر کے مطابق یہ علاقہ سمندر کے اندر موجود چٹانوں اور کم گہرے پانی کی وجہ سے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ اُس علاقے میں پیش آیا جو جزیرہ مسندم اور جزیرہ الخیل کے قریب واقع ہے، جہاں پانی نسبتاً کم گہرا اور قدرتی رکاوٹوں سے بھرا ہوا ہے، جس کے باعث وہاں سے جہازوں کا گزرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جہاز اس مقام سے نہ آگے بڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی واپس پلٹ سکتے ہیں، جس کے باعث صورتحال پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق اس سے قبل امریکی سینٹ کام نے دعویٰ کیا تھا کہ دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزر چکے ہیں، تاہم ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔
ادھر جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے مبینہ طور پر ان جہازوں کو آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں واقع “محفوظ” عمانی پانیوں کی سمت رہنمائی فراہم کی تھی۔
تاحال اس واقعے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جبکہ علاقائی صورت حال پر مختلف دعوؤں اور بیانات کے باعث کشیدگی اور ابہام برقرار ہے۔
