امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کے حامی نہیں، تاہم امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایران کی فوجی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اس کی قیادت کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران اب بحریہ، فضائیہ اور مؤثر ریڈار نظام سے محروم ہو چکا ہے، جبکہ امریکا خطے میں بھرپور اور مؤثر کارروائیاں کر رہا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا جدید ترین ہتھیار اور تمام دستیاب وسائل استعمال کرے گا، کیونکہ امریکی افواج ہر وقت مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جنگ پسند نہیں کرتے، لیکن ایران کو ایسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران اب مذاکرات میں پہلے سے زیادہ لچک دکھا رہا ہے، جو سفارتی پیش رفت کی علامت ہے۔ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود تیل کی قیمتیں توقع کے مطابق نہیں بڑھیں اور جنگ کے خاتمے کے بعد پیٹرول مزید سستا ہونے کا امکان ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ تناؤ کے باوجود امریکی حصص بازار نئی بلند سطح پر پہنچ چکے ہیں اور ملکی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے، چاہے حالات کسی حد تک جنگ جیسے کیوں نہ ہوں۔
صدر ٹرمپ نے چین کے متوقع دورے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ چینی صدر سے ملاقات کے منتظر ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں امریکا کی برتری کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے محصولات سے متعلق فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے غیر مؤثر قرار دیا۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی تیاری جاری ہے اور ضرورت پڑنے پر ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا

Add A Comment