شام کی حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد ایک تاریخی لمحہ سامنے آنے والا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ اہلکار کے مطابق، عبوری صدر احمد الشرع آئندہ ماہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور اس موقع پر دنیا سے خطاب بھی کریں گے۔ یہ تقریب 58 برس بعد پہلی بار ہوگا کہ کوئی شامی صدر عالمی ادارے کے اس بڑے پلیٹ فارم پر اپنی بات رکھے گا۔
اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "صدر احمد الشرع نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں باضابطہ طور پر شریک ہوں گے اور اعلیٰ سطحی مباحثے کے دوران خطاب کریں گے۔”
احمد الشرع نے گزشتہ سال دسمبر میں اقتدار سنبھالا تھا، اس وقت جب ان کے زیرِ قیادت افواج پر مشتمل اتحاد نے لگ بھگ 14 سال طویل خانہ جنگی کے بعد بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ کر دیا تھا۔ اس بغاوت اور اقتدار کی تبدیلی کے نتیجے میں شام کے سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی، جس کے اثرات آج بھی علاقائی سیاست پر مرتب ہو رہے ہیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، احمد الشرع ایسے پہلے صدر ہوں گے جو جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کریں گے اور 1967 میں نورالدین الأتاسی کے بعد اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے خطاب کرنے والے پہلے شامی رہنما بن جائیں گے۔ یہ موقع نہ صرف شام بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے اہم سفارتی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد سے، عبوری حکومت نے بین الاقوامی تعلقات کو ازسرِ نو تشکیل دینے کے لیے نمایاں اقدامات کیے ہیں۔ اپریل میں شام کے وزیرِ خارجہ اسعد الشیبانی نے اقوامِ متحدہ سے اپنا پہلا باضابطہ خطاب کیا اور نیویارک ہیڈکوارٹر میں شام کے نئے پرچم کو سربلند کیا۔ یہ اقدام اس بات کا اشارہ تھا کہ دمشق دوبارہ عالمی برادری میں اپنی جگہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
احمد الشرع نے مئی میں دو بڑے سفارتی دورے کیے۔ پہلے انہوں نے فرانس کا دورہ کیا جہاں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ملاقات ہوئی، اس کے بعد وہ سعودی عرب گئے اور وہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایک اہم ملاقات کی۔ یہ دونوں ملاقاتیں شام کی نئی خارجہ پالیسی اور عالمی سطح پر اس کے تشخص کی بحالی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔
تاہم، ان تمام کوششوں کے باوجود احمد الشرع کو کچھ سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماضی میں القاعدہ سے تعلق اور مطلوب دہشت گرد کی حیثیت سے شناخت ہونے کے سبب ان پر اقوامِ متحدہ کی عائد کردہ پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔ اس وجہ سے انہیں ہر غیر ملکی دورے کے لیے خصوصی استثنیٰ کی درخواست کرنا پڑتی ہے۔ یہ قانونی رکاوٹ ان کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں سب سے بڑی مشکل بن چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر احمد الشرع جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کامیابی سے خطاب کرتے ہیں، تو یہ شام کے لیے ایک بڑے سفارتی سنگِ میل کی حیثیت رکھے گا اور اس بات کا عندیہ ہوگا کہ خانہ جنگی کے بعد شام عالمی سطح پر اپنی شناخت کو دوبارہ قائم کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے۔
