شام کے موجودہ صدر احمد الشرع نے اپنے حالیہ خطاب میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ کسی بھی ملک کی بقا اور ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب وہاں کی سیاست تعصب، فرقہ واریت اور پرانی رواجی تقسیم سے بالاتر ہو۔ ان کے مطابق اگر سیاسی سوچ کو مذہبی اور نسلی بنیادوں تک محدود کر دیا جائے تو نظامِ حکومت کمزور ہو جاتا ہے اور ریاست آگے بڑھنے کے بجائے جمود کا شکار ہو جاتی ہے۔
احمد الشرع نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ لبنان اور شام کے تعلقات ایک نئے موڑ پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ماضی میں خصوصاً حافظ الاسد اور بشارالاسد کے ادوار میں لبنان نے شام کی پالیسیوں کے باعث بھاری نقصانات برداشت کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دمشق اب اس دور کو پیچھے چھوڑ کر ایک نئے صفحے کا آغاز کرنے کے لیے تیار ہے اور کسی بھی طور پر بیروت پر تسلط قائم کرنے کا خواہاں نہیں۔
صدر الشرع نے اس خیال کو مسترد کر دیا جسے "آگ کے دریا” کے نظریے سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے، یعنی شام اور لبنان کے درمیان ہمیشہ تناؤ اور مخالفت رہے گی۔ ان کے مطابق یہ سوچ حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ اس کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اقتصادی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شعبوں میں بے شمار امکانات موجود ہیں جو مستقبل میں دونوں کے باہمی تعلقات کے لیے بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نئے شام نے حزب اللہ کے ہاتھوں لگنے والے زخموں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور اس باب کو ماضی کا حصہ سمجھ کر آگے بڑھنے کا عزم کیا ہے۔ صدر کا کہنا تھا کہ لبنان کے ساتھ تعاون کو دشمنی پر ترجیح دینا ہی آج کے وقت کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔
احمد الشرع نے ایران کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ تہران نے جب دمشق سے فاصلہ اختیار کیا تو دراصل اس نے پورے اس نام نہاد "مزاحمتی محور” کو کھو دیا جس پر وہ ناز کرتا رہا تھا۔ آج ایران کسی نہ کسی انداز میں اس تعلق کو بحال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، کیونکہ شام کے بغیر اس کی علاقائی پالیسی ادھوری ہے۔
صدر الشرع نے اپنی گفتگو کے اختتام پر پھر اس بات کو دہرا دیا کہ ایک مستحکم اور خوشحال شام صرف اسی صورت وجود میں آ سکتا ہے جب داخلی سیاست میں تفریق، تنگ نظری اور فرقہ واریت کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ ان کے مطابق ملک سازی کا عمل اس وقت کامیاب ہو گا جب قومی وحدت کو بنیاد بنایا جائے اور ہمسایہ ملک لبنان کے ساتھ پرامن تعلقات کو مستقبل کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا جائے۔
