صنعا/مقبوضہ بیت المقدس:مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی نئی سطح پر پہنچ گئی ہے،جب یمن کی مسلح افواج نے اسرائیل کے معروف بن گوریون ایئرپورٹ کو ایک ہائپر سونک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنا کر تہلکہ مچا دیا۔ حملے کے نتیجے میں ایئرپورٹ کی سرگرمیاں مفلوج ہو گئیں اور لاکھوں اسرائیلی شہریوں کو ہنگامی طور پر محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونا پڑا۔
یمنی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سری نے بدھ کے روز جاری بیان میں اس حملے کو "فوجی، اخلاقی اور مذہبی فریضہ” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت، محاصرے اور انسانی بحران کے ردعمل میں کی گئی ہے، تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ فلسطینی عوام تنہا نہیں۔
یحییٰ سری کا کہنا تھا یمن، فلسطین کے ساتھ کھڑا ہے اور جب تک غزہ کا محاصرہ ختم نہیں ہوتا اور اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی، ہم اپنی ذمہ داریوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے عرب اور اسلامی دنیا کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا دفاع پوری امت مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور اب خاموشی ناقابل قبول ہے۔
یہ حملہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یمن، جو خود گزشتہ ایک دہائی سے خانہ جنگی اور بیرونی مداخلت کا شکار ہے، اب منطقی عسکری حکمت عملی کے ساتھ اپنے وسائل کو فلسطینی کاز کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ ہائپر سونک بیلسٹک میزائل جیسے جدید ہتھیار کا استعمال خطے میں جنگی توازن کے بدلتے زاویے کو واضح کرتا ہے۔
اس کارروائی کا پس منظر اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بمباری ہے، جس میں اب تک 62,895 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں، خواتین اور بزرگوں کی ہے۔ اسرائیلی ٹینک اور لڑاکا طیارے غزہ شہر میں رہائشی بلاکس کو نشانہ بنا رہے ہیں، جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے مگر عالمی طاقتوں کی خاموشی برقرار ہے۔
فی الحال بین الاقوامی سطح پر یمن کے اس میزائل حملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے کے دیگر ممالک بھی یمن کی پیروی کرتے ہیں تو یہ اسرائیل کے لیے ایک نئے محاذ کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
